نئی دہلی 4 فروری (ایس او نیوز) جماعت اسلامی ہند نے اسمبلی انتخابات میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کو پوری طرح مسترد کرتے ہوئے سیکولر اور اچھے کردار کے حامل امیدواروں کے حق میں ووٹنگ کریں۔امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے آج مرکز جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں منعقد ماہانہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو تقسیم کرنے والی طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ فرقہ وارانہ خطوط پرووٹوں کی تقسیم کرائی جائے اور متنازعہ مسائل میں ووٹروں کو الجھا کر فائدہ اٹھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ طاقتیں ملک کے سنجیدہ مسائل اور عام آدمی کو درپیش مشکلات جس میں نوٹ بندی،غربت،بدعنوانی،مہنگائی، بے روزگاری،سرمایہ دارانہ نظام، اخلاقی انحطاط اور جمہوری روایات و اقدار کا زوال جیسے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹادیتی ہیں۔مولانا موصوف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹرکی توسیع نہیں ہوپارہی ہے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی کوشش نظر نہیں آرہی ہے جو ملک اور معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔امیر جماعت مولانا عمری نے کہا کہ انفراسٹرکچر پرحکومت کی توجہ نہیں ہے اور اقتصادی نابرابری کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔انہوں نے اس کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، کسی کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار نہ کیا جائے اور ملک کی اقلیتیں خود کومحفوظ و مامون سمجھیں۔انہوں نے کہاکہ ایسے حساس وقت میں جماعت اسلامی ہند رائے دہندگان سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو پوری طرح نظر انداز کریں۔رائے دہندگان نفرت پھیلانے والوں کے پروپیگنڈہ سے متاثر نہ ہوں۔ دولت اور طاقت (دھن، بل)کے زور پرجو لوگ انتخابات میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں ان کی تائید نہ کی جائے۔
اس سے قبل جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے نامہ نگاروں سے مرکزی بجٹ پر سیر حاصل گفتگو کی اور ان کے سوالات کا جواب دیا۔ انہوں نے دوران خطاب کہا کہ مرکزی حکومت نے اپنے عام بجٹ میں نوٹ بندی کے منفی اثرات سے عام لوگوں کو راحت پہنچانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے اور عالمی معیشت کی سست روی کی وجہ سے حکومتی اخراجات میں کمی آنے کی توقع ہے جس کا راست اثرفلاحی اسکیموں اور روزگار کے مواقع پر پڑے گا۔
سکریٹری جنرل نے صحافیوں کو بتایا کہ جماعت اسلامی ہند نے مرکزی حکومت کو تعلیمی سیکٹر میں جی ڈی پی کا 6فیصد اور صحت کے شعبے میں جی ڈی پی کا3فیصد حصہ مختص کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔2017-18کے عام بجٹ میں تعلیم کے شعبے پر حکومت نے3.7فیصد اور ہیلتھ سیکٹر میں 1.2فیصد مختص کیا ہے جو ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے لئے اس مرتبہ 4195کروڑ مختص کیا گیا ہے لیکن ایس سی /ایس ٹی کے لئے جو رقم مختص کی گئی ہے اس کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے۔انہوں نے بجٹ کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے حکومت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ انہیں بلاسودی قرض فراہم کیا جائے نیزان کے سابقہ لون معاف کر دئے جائیں لیکن حکومت ان کی حالت زار کو بہتر بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔
نائب امیر جماعت نصرت علی نے موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس حکم نامے کی شدید مذمت کرتی ہے جس میں انہوں نے شامی مہاجرین پر غیر معینہ مدت کے لئے اورشام سمیت سات مسلم ممالک کے عام شہریوں کو90دنوں تک امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مذہب کی بنیاد پردنیا کی تقسیم کی کوشش ہے جو انتہائی غیر دانشمندانہ اور عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے حیرت وتعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ جیسے جمہوری ملک نے کیا ہے جومہاجرین کا ملک رہا ہے اور جس نے ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کو گلے لگا یا ہے۔نائب امیر جماعت نے کہا کہ اس حکم نامے میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے انتشار اور نفرت کو ہوا ملے گی اور عالمی امن پارہ پارہ ہوگا نیزانصاف و مساوات جیسے آفاقی اقدار کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ اس معاملے کا ایک خوش کن پہلو یہ ہے کہ جس ملک میں اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی ملک کے عوام اس فیصلے کے خلاف مسلسل اپنی آواز بلند کررہے ہیں،احتجاج ومظاہر وں کے ذریعہ اس کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمس کو بھی اس فیصلے کا سختی کے ساتھ نوٹس لینا چاہیے۔ جماعت امید کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پہلو پر غورکرے گی اور اپنے فیصلے کو جلد از جلد واپس لے گی۔موقع پر ملی و ملکی امور کے سکریٹری محمد احمد،میڈیا انچارج ارشد شیخ نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔